منگل 29 ستمبر 2026 - 16:16
اسلامی حکمرانی میں ایمان، احساسِ ذمہ داری، خدمتِ خلق اور خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس بنیادی اہمیت رکھتا ہے

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین نجف لکزائی نے کہا ہے کہ آج ہم روایتی اور مادی مفادات پر مبنی نظامِ حکمرانی سے آگے بڑھتے ہوئے ایسے اسلامی نظام کی تشکیل کی جانب گامزن ہیں جو اسلامی تمدن کی بنیادیں مضبوط کر سکے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی علوم و ثقافت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین نجف لکزائی نے ’’حکمرانیِ زمینه‌ساز‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک سلسلہ وار اجلاس میں ’’حکمرانی کے محرکات اور رجحانات‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا: انقلاب اسلامی کے اہداف کو سمجھنے کے لیے اس کی فکری و نظری بنیادوں اور اس کے مطلوبہ معاشرے کے تصور کو سمجھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا: انقلاب اسلامی کو صرف آمریت کے خاتمے یا غیر ملکی وابستگی سے نجات تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے اہداف اسلامی، توحیدی اور تمدنی نوعیت کے حامل ہیں۔ اسلامی حکومت کا مقصد صرف حکومتی نظام چلانا نہیں بلکہ ایسا معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے جو اسلامی اقدار اور تعلیمات پر استوار ہو۔

حجت الاسلام لکزائی نے کہا: موجودہ دور میں صرف دین کی تبلیغ کافی نہیں بلکہ اسلامی اصولوں کے مطابق پالیسی سازی، قانون سازی، اجتماعی نظام کی اصلاح اور معاشرتی ڈھانچوں کی تشکیل بھی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا: قوانین اور حکومتی پالیسیوں کو اس انداز میں مرتب کیا جانا چاہیے کہ وہ اسلامی معاشرے اور اسلامی تمدن کی تشکیل میں معاون ثابت ہوں۔

اسلامی علوم و ثقافت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے معاشرتی اصلاح کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: صرف افراد کی تربیت کافی نہیں بلکہ معاشرتی اداروں اور نظامِ حکمرانی کو بھی اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ اسلامی حکمرانی میں ایمان، احساسِ ذمہ داری، خدمتِ خلق اور خداوند متعال کے سامنے جواب دہی کا احساس بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین نجف لکزائی نے حوزات علمیہ اور جامعات کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا: علمی اداروں کو تعلیم و تحقیق کے ساتھ ساتھ اسلامی حکمرانی، پالیسی سازی اور معاشرتی اصلاح کے لیے فکری رہنمائی فراہم کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا: حوزہ علمیہ کو اسلامی تہذیب و تمدن کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا ہو گا اور انہیں موجودہ نظامِ حکمرانی اور مطلوبہ اسلامی حکمرانی کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کے لیے علمی، اصلاحی اور خیرخواہانہ انداز میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha